اگرکوئی ایسی صورت نہ ہو تو پھر بِلاوجہ اپنے علم وفضل کا اِظہار نہ کیاجائے ، مثلاً میں عالِم وفاضِل ہوں،میں بھی فُلاں شیخ الحدیث صاحب کا شاگرد ہوں،ہم نے بھی عُلَما کے جوتے سیدھے کیے ہیں وغیرہ کہ اس سے حُبِّ جاہ،رِیاکاری اور غرور وتکبر میں پڑجانے کا اندیشہ ہے۔ یہی مُعامَلہ ہنر، فن، صلاحیت ، دولت اور عہدے وغیرہ کے اِظہار کا بھی ہے۔ اگر ان چیزوں کے اِظہار کی کوئی خاص ضرورت و حاجت نہیں تو پھر بِلاوجہ ان کو ظاہر نہ کیا جائے کہ اس سے خود سِتائی ،حُبِّ جاہ اور دیگر کئی باطنی اَمراض کی گناہ والی صورتوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ بِلاضرورت نعمتوں کے اِظہار سے ویسے بھی بچنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ ان نعمتوں کی حفاظت ہو اور حاسدین سے بچا جا سکے۔حدیثِ پاک میں ہے:تم پر اپنی نعمتوں کو پوشیدہ رکھنا لازم ہے(حسد سے بچنے کے لیے) کیونکہ ہر ذِی نعمت پرحسد کیا جاتا ہے۔ (1)
ڈاکٹر، سرجن ، انجینئر اور پروفیسر
عرض: ڈاکٹر، سرجن ، انجینئر اور پروفیسر وغیرہ کس طرح تعریف اور شہرت کی محبت سے بچ سکتے ہیں؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… روح البیان ، پ۳۰ ،الضحی ،تحت الآیة:۱۱ ،۱۰/۴۵۹