عالِم کا اپنا علم ظاہر کرنے کی صورتیں
شیخ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام احمد بن حجر ہیتمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:اگر کوئی عالم ایسے شہر میں جائے جہاں کے رہنے والے لوگ اس کے علم اور اطاعت کو نہ جانتے ہوں تو اسے اس بات کا اِختیار ہے کہ ان کے سامنے اس نیت سے اپنا علم وتقویٰ ظاہر کرے کہ وہ لوگ اسے قبول کر لیں اور اس سے نفع اٹھائیں،اس کی مثال حضرتِ سیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہ فرمان ہے جسے پارہ 13 سورۂ یوسف کی آیت نمبر 55 میں یوں بیان کیا گیا ہے : قَالَ اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾
ترجمۂ کنز الایمان:یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔
اِسی طرح اگر کوئی جاہل یادُشمنی رکھنے والا اس کے علم کا اِنکار کر دے تو اسے اس آیتِ مُبارَکہ سے اِستدلال کرتے ہوئے اپنے علم کے بارے میں بتانے کا اِختیار ہے تا کہ اس دُشمنی رکھنے والے کی ناک خاک آلود ہو جائے اور لوگ اسے قبول کرتے ہوئے اس کے عُلُوم سے نفع اٹھائیں۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… الزواجر،الباب الاوّل فی الکبائر...الخ ،الکبیرة السادسة والاربعون...الخ،۱/۲۰۲-۲۰۳