Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
55 - 103
بھی چھپانا چاہیے؟
اِرشاد: کوئی علم ہویا فن ، ہنر ہو یا صَلاحیت ، دولت ہو  یا عہدہ  یہ سباللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   کی  نعمتیں ہیں۔انہیں لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے اور پوشیدہ رکھنے کی دو صورتیں ہو سکتی  ہیں۔ اگر واقعی ان چیزوں کو ظاہر کرنے کی حاجت ہے تو ظاہر کر سکتے ہیں مثلاً اگر کوئی شخص عالِم ہے اور وہاں پر بَدمذہبیت اور فتنوں کا ظہور ہو رہا ہے تو اب اس عالِم پر فرض ہے کہ وہ اپنا علم   ظاہر کرے اور ان فتنوں اور بدمذہبیت کا سدِّباب کرے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو وہ وعیدِ شدید  کا مستحق ہو گا چُنانچہ مکّی مَدَنی سلطان،سرورِ ذیشانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نشان ہے:جب فتنے یا فرمایا بدمذہبیاں ظاہر ہوں اور میرے صحابہ کو بُرا کہا جائے تو عالِم کو چاہیے کہ وہ اپنا علم ظاہر کرے  اور جو ایسا نہ کرے تو اس پر اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ ،فرشتوں اور تمام آدَمیوں کی لعنت،اللہ  عَزَّ وَجَلَّ نہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ ہی نَفْل۔(1)
کِلکِ رضا ہے خنجرِ خونخوار برق بار	
اَعدا سے کہدو  خیر منائیں نہ شر کریں	(حدائقِ بخشش)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… الجامع لاخلاق الراوی ،باب اتخاذ المستملی ،املاء فضائل الصحابة ...الخ ، ص ۳۵۷ ، حدیث:۱۳۵۲