Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
54 - 103
کی نذر کرتے ہیں تو کبھی حاجی صاحب کی الغرض ان کا مائیک چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔ اگر کوئی غریب و نادار،سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا عاشقِ زار اپنے گھر میں محفلِ نعت کا اِہتمام کرے اور انہیں بلائے تو ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا ، متعدد محافل میں شرکت کی وجہ سے انہیں  تھکاوٹ بھی ہو جاتی ہے اور مُسلسل نعتیں پڑھنے کے سبب  گلا بھی خراب ہو چکا  ہوتا ہے۔ایسے نعت خوانوں کو غور کرنا چاہیے کہ کیا اسی کا نام اِخلاص ہے؟ کیااسی کو عشقِ رسول  کہتے ہیں؟اگر اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے  نعتیں پڑھنی ہیں تو امیر وغریب کے ہاں جانے میں  فرق کیوں؟ بڑی محفل اور گھرکی محفل میں نعت پڑھنے کے انداز میں فرق کیوں؟ رضائے الٰہی تو ان چیزوں کے بغیر بھی حاصل ہو سکتی ہے بلکہ مزہ تو اسی میں ہے کہ  کوئی آئے یا نہ آئے ،ایکو ساؤنڈ ہو یا نہ ہو،آپ نعت  پڑھے جا رہے ہوں۔ شہنشاہِ  سخن، اُستادِ زَمن  مولانا حسن رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان کیا خوب فرماتے ہیں:        ؎
دل میں ہو یاد تِری گوشۂ تنہائی ہو	
          پھر تو خَلْوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو	(ذوقِ نعت)
اپنے  علم ، ہنر اور فن  کو ظاہر کرنا کیسا؟
عرض: کیا نیکیوں  کی طرح  علم ، ہنر، فن ، صَلاحیت ، دولت اور عہدے وغیرہ کو