Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
53 - 103
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: جس نے اپنے بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اس کو ذَلیل کر دیا اور جس نے تنہائی میں نصیحت کی اس نے اس کو مزیّن (آراستہ) کر دیا۔ (1) اگر آپ پہلے  رابِطہ کرنے کے بجائے  اس کا رد لکھ کر چھاپ دیں اور پھر اس سے توبہ کا مُطالَبہ کریں تو اس طرح قبولِ حق کے اِمکانات بَہُت کم ہوتے ہیں۔ اس طرح سامنے والا اِصلاح قبول کرنے کے بجائے مقابلے  پر اُتر آتاہےلہٰذا مصنفین اور کالم نِگاروں کو چاہیے کہ اپنی تحریر  میں خلوصِ نیت  کے ساتھ حکمت بھرا اَنداز اپناتے ہوئے خود کو رِیاکاری،خودسِتائی اور حُبِّ جاہ سے بچانے کی کوشش کریں۔ 
اِسی طرح نعت خواں اسلامی بھائیوں  کو اچھی آواز کے  ساتھ ساتھ  اگر بھرپور اخلاص کی دولت  بھی میسر آ جائے تو  سونے پہ سُہاگا ہے۔ آج کل نعت خوانی جیسے مقدس کام کو بھی بعض نعت خوانوں نےمحض ایک رَسم اور کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اگر انہیں کوئی مالدار،سرمایہ دار دعوت دے تو وہاں سر کے بل پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔دَورانِ نعت جُوں جُوں نوٹوں کی برسات ہوتی ہے تو وہ مچلنے لگتے ہیں،ان پر وَجدکی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے،اَشعار کا تکرار ہونے لگتا ہے،کبھی کوئی شعر سیٹھ صاحب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… تنبیهُ الغافلین ، باب الامر  بالمعروف  والنھی عن المنکر،ص۴۹