کریں،دوسروں پر بدگمانی نہ کریں کہ یہ حرام ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں اخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۔
مصنف اورنعت خواں رِیاکاری سے کیسے بچیں؟
عرض:مصنف،کالم نِگار،شاعر اورنعت خواں رِیاکاری سے کیسے بچیں؟
اِرشاد:مصنف ہو یا کالم نِگار،شاعر ہو یانعت خواں،عام ہویاخاص سبھی کوچاہیے کہ رِیا کاری سے بچنے کے لیے اپنی نیّتوں کو درست رکھیں ۔ ہر قول و فعل سے پہلے خوب غور وفکر کرنے کی عادت بنائیں کہ اِس سے اُس کا مقصد کیا ہے؟ اگر اس میں دِکھاوے کی بُو پائیں تو فوراً اپنی نیّت کی اِصلاح فرمائیں اور یہ ذِہن بنائیں کہ بارگاہِ الٰہی میں وُہی عمل مقبول ہوتا ہے جو فقط رِضائے الٰہی کے لیے کیا جاتا ہے۔ لوگوں کو دِکھانے یا سُنانے کی خاطِر کیے گئے نیک عمل کا قبول ہونا تو ایک طرف رہا اُلٹا عذابِ جہنّم کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس طرح غور وفکر کرنے کی عادت بنانے سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی تحریر و تقریر بلکہ ہرقول وفعل رِیاکاری کی آفت سے دُور اور اِخلاص کی دولت سے مَعْمور ہو جائے گا۔
اگر آپ اپنی تحریر کے ذریعے مسلمانوں کی اِصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اس