میں کمی یا محرومی کا باعث ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اِخلاص کے ساتھ نیکیاں کرنے اور ان پر اِستقامت پانے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم۔
عطا کر دے اِخلاص کی مجھ کو نعمت
نہ نزدیک آئے ریا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
مصنفین وشُعراء کا نام وتخلص اِستعمال کرنا
عرض :مصنّفین و مؤلفین کا اپنی کُتُب پر نام لکھنا، شُعراء کا اپنے کلام میں تخلُّص استعمال کرنا کیسا ہے؟
اِرشاد:مصنف یا شاعِر کی شخصیت اگر اس قدر معروف اور مُستند ہو چکی ہو کہ لوگ کتاب یا کلام میں اس کا نام و تخلُّص(1) دیکھ کر ہی اسے لے لیں گے اور پڑھیں گے تو اب دینی فوائد کے پیشِ نظر اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنا نام وتخلُّص استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں جیسے میرے آقااعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی شخصیت ہے کہ آپ کا نام وتخلُّص جس کتاب یا کلام میں ہو اسے قبولیت کے بارہ چاند لگا دیتا ہےاور اگر آپ کا نام و تخلُّص نکال دیا جائے تو شاید بہت سے لوگ نہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……تخلص کی تعریف:شاعر كا وه مختصر نام جووہ اپنےاَشعار میں استعمال کرتا ہے۔ (فيروزاللغات)