Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
48 - 103
فائدہ تو ظاہر ہے اور بغیر اِخلاص(یعنی ریا کاری وغیرہ)کے ساتھ کیے جانے والے  نیک اَعمال  کا اگرچہ ثواب نہیں ملتا مگر پھر بھی عبادات کی صحت(یعنی فرائض وواجبات وغیرہ کے ذِمّے سے ساقط ہوجانے) کا حکم دیا جائے گا ”مثلاً رِیا کے ساتھ نماز پڑھی تو نماز کی صحت کا حکم دیا جائے مگر چونکہ اخلاص نہیں ہے لہٰذا  ثواب نہیں۔“(1)اور اگر رِیا کار سچّی توبہ کر لے تو اس کی بَرَکت سے گزشتہ ریاکاری کی نامقبول عبادات کے بارگاہِ الٰہی میں قبول ہونے اور ثواب ملنے کی اُمید ہے جیسا کہ مُفسّرِشہیر،حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:رِیا سے عبادت ناجائز(یعنی باطل)نہیں ہو جاتی بلکہ نامقبول ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے اگر ریاکار آخر میں ریا سے توبہ کرے تو اس پر ریا کی عبادت کی قضا واجب نہیں بلکہ اس توبہ کی برکت سے گزشتہ نامقبول ریا کی عبادات بھی قبول ہو سکتی ہیں (اور چونکہ) مطلقاً ریا سے خالی ہونا بہت مشکل ہے(لہٰذا) کوئی شخص ریا کے اندیشے سے عبادات نہ چھوڑے بلکہ رِیا سے بچنے کی دُعا کرے۔(2) بہرحال نیک اَعمال ترک نہ کیے جائیں بلکہ ان میں پائی جانے والی  بُرائیوں کو دُور کیا جائے جو اَجرو ثواب 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… بہارِ شریعت ،۳/۶۳۶-۶۳۷،حصّہ:١٦
2…… مِرآۃُ المناجیح  ، ۷/۱۲۷