اور خود نُمائی وغیرہ سے نیک عمل اَکارَت ہو جاتے ہیں تو ان کو بجا لانے کا کیا فائدہ، کیا ایسا کرنا دُرُست ہے؟
اِرشاد: ریا کاری،تکبر اور خود نُمائی وغیرہ آفات کی وجہ سے نیک عمل ترک کر دینا دانشمندی نہیں بلکہ سرا سر نادانی اور وسوسۂ شیطانی ہے۔اس شیطانی وسوسے کو دور کرتے ہوئے نیک اعمال چھوڑنے کے بجائے اپنی نیت درست کرنی چاہیے کیونکہ اگر ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو مکھی کو اُڑایا جاتا ہے ناک نہیں کاٹی جاتی۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:ریاکاری کے خوف سے عمل چھوڑ دینے والے شخص کی مثال اس غلام کی طرح ہے جسے آقا نے ایسی گندم دی جس میں دیگر دانے بھی ملے ہوئے تھے اور کہا : اسے اچھی طرح صاف کر دو۔غلام اس خوف سے کہ میں اسے اچھی طرح صاف نہ کر سکوں گا لہٰذا آقا کی بات پر سِرے سے عمل ہی چھوڑ دیتا ہے۔ تو ریاکاری کے خوف سے سِرے سے عمل ترک کرنا اخلاص کو ترک کرنا ہے اور ریاکاری کے ایسے خوف کا کوئی اِعتبار نہیں ۔ (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِخلاص ہو یا نہ ہو بہر صورت فرائض و واجبات بجا لانے ہی میں فائدہ ہے۔ اِخلاص کے ساتھ کیے جانے والے اَعمال کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… احیاءُ العلوم،کتاب ذم الجاہ والریاء ، بیان ترک الطاعت …الخ ،۳/۳۹۵