Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
45 - 103
 کی بے نیازی سے ڈرتا رہے اور یہ تصوّر کرے کہ نہ جانے میں حج کے مَناسِک اُس کے شایانِ شان ادا کر سکا ہوں یا نہیں، میں واقعیاللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی بارگاہ میں بھی مقبول حاجی ہو چکا ہوں یا نہیں۔ یقیناً حقیقی حاجی تو  وہی ہے جس کا حجاللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں قبول ہو چکا ہے  ورنہ اپنے مُنْہ مِیاں مٹھو بننے سے کیا فائدہ! جب حاجی اپنے اندر اس طرح خوف و خشیّت  کی کیفیت پیدا کرے گا تو اسے  اپنے آپ کو”حاجی“ کہنے کہلوانے اور اپنے حج وعمرہ کی تعداد بیان کرنے کی خواہش ہی نہ رہے گی۔ اپنے مُنْہ مِیاں مٹھو بننے کا شوق بَہُت بُرا ہے  کہ اس سے نیک اَعمال داؤ پر لگ جاتے ہیں۔اس ضمن میں ایک دانا غُلام اور اس کے نادان  آقا کی عِبرت انگیز حِکایت مُلاحَظہ کیجیے:
نمک کی خاطر حج کا سودا
ایک غُلام اور آقا حج کر کے پلٹے،راہ میں نمک نہ رہا،نہ خرچ تھا کہ مول (قیمتاً) لیتے،ایک منزل پر آقا نے غُلام سے کہا: بقّال(سبزی فروش/ کھانے پینے کاسامان بیچنے والے) سے تھوڑا سا  نمک یہ کہہ کر لے آؤ  کہ ”میں حج سے آیا  ہوں۔“چُنانچہ وہ گیا اور یہ  کہہ کر تھوڑا سا نمک لے آیا۔ دوسری منزل پر آقا نے پھر بھیجا اور کہا:اس بار یوں کہو کہ”میرا آقا حج سے آیا  ہے۔ “چُنانچہ اس بار بھی غُلام یہ کہہ کر تھوڑا سا نمک لے آیا ۔ تیسری منزل پر