ہاں! نفل نمازوں کی ادائیگی ،تلاوتِ قرآنِ پاک اور وظائف وغیرہ جہاں تک ممکن ہو پوشیدہ طور پر ادا کیجیے اور ادا کرنے کے بعد بھی انہیں لوگوں سے مخفی رکھیے اور بارگاہِ الٰہی میں ان کی قبولیت کی دُعا کرتے رہیے۔بسا اوقات شیطان لوگوں کو”تحدیثِ نعمت“ کاجذبہ دِلا کر انہیں عبادات ظاہر کرنے پر اُ کساتا ہے تو اچھے بھلے نیک و پارسا نظر آنے والے بھی”تحدیثِ نعمت“ کہہ کر اپنی عبادات کے ڈَنکے بجانا شروع کر دیتے ہیں کہ”میں تو اتنے سال سے باجماعت نماز ادا کررہاہوں،اتناعرصہ ہو گیا میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی ، میں ہمیشہ پہلی صف میں نماز ادا کرتا ہوں، رات کو جب تک اٹھ کر تہجد ادا نہ کر لوں تو سکون ہی نہیں ملتا وغیرہ ۔“اس طرح اپنے مُنْہ میاں مٹھو بننے سے نیک اَعمال کا اجر وثواب بھی ضائِع ہو جاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے کے منصوبے بھی دَھرے کے دَھرے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی محضاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے عمل کرے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے خوش ہو کر لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دیتاہے لوگوں کے دل خود بخود اسے نیک ماننے لگتے ہیں۔
اپنے مُنْہ مِیاں مٹھو بننے سے کیا فائدہ!
اِسی طرح حاجی کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ