Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
43 - 103
میں اس کی حفاظت اور بَقاہے ۔فی زمانہ اپنی نیکیوں  کو چھپانا بَہُت مشکِل ہے مگر ناممکن  نہیں۔حدیثِ پاک میں ہے:آدمی کا فرض نماز کے علاوہ(نفل) نماز اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے۔(1) مگر آہ!آج ہمارے دلوں میں سکون و اطمینان ہے نہ گھروں میں امن و سلامتی کہ فرائض و تحیۃ المسجد کے علاوہ بقیہ نماز و نوافل وغیرہ گھروں میں چھپ کر یکسوئی کے ساتھ ادا کر سکیں اور مزید یہ کہ بقیہ نماز گھر میں ادا کرنے پر لوگوں کی طرف سے بدگمانی   انہیں گناہ میں مبتلا کر سکتی ہے  لہٰذا بقیہ نماز بھی مسجد ہی میں پڑھ لیجیے۔
میرے آقا اعلیٰ حضرتعَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتفرماتے ہیں:اب فی زمانہ سنّتوں کے مساجد ہی  میں پڑھنے پرمسلمانوں کا عمل ہے اور اس میں کئی  مصلحتیں ہیں کہ گھر جا کر سنتیں  ادا کرنے میں وہ اطمینان نہیں ہوتا  جو مساجد میں ہوتا ہےاورلوگوں کی عادت کے خلاف کرنا باعثِ طعن ورُسوائی اور بدگمانیوں اور غیبتوں کا دروازہ کھولنا ہے۔ گھر میں سنتیں(اور نوافل)ادا کرنے کا حکم صرف مستحب  ہے  مگر ان مصلحتوں کی رعایت کو  اس حکم پر  ترجیح دی جائے گی لہٰذا اب سنتیں وغیرہ مساجد ہی میں ادا کی جائیں۔ ائمہ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:معمول کے خلاف کرنا شہرت اور مکروہ ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… بخاری،کتاب الاذان ، باب  صلاة  اللیل ،۱/۲۶۰،حدیث:۷۳۱
2…… فتاویٰ رضویہ،۷/۴۱۶ ملخصاً