Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
42 - 103
شیخ سے عرض کیا کہ حضور! مجھے میرا  مال واپس کر دیجیے میں ابھی اس کو راہِ  خدا میں خرچ کرنا نہیں چاہتا۔ شیخ نے فوراً  دِرہموں کی تھیلیاں ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد کے سامنے ڈال دیں،آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ تھیلیاں اُٹھا کر گھر لے آئے۔حاضرینِ مجلس میں خوب چہ میگوئیاں ہوئیں۔جب رات ہوئی اور شیخ اکیلے رہ گئے توحضرتِ سیِّدُنا ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد پھر دو ہزار دِرہموں کی تھیلیاں لے کر شیخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے شیخ ! آپ اس مال کو پوشیدہ طور پر خرچ فرمائيں اور میرا نام ہرگز کسی پر ظاہر نہ فرمائيں۔یہ سُن کرشیخ ابو عثمان حِیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی پر حالتِ گریہ طاری ہوگئی اور فرمانے لگے کہ ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد! تیری ہمت پر صد آفرین ہے۔(1) 
نفسِ بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی	
عملِ نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا	(سامانِ بخشش)
نمازی اورحاجی  نیکیاں کیسے  چھپائیں؟
عرض :نمازی اور حاجی کس طرح اپنی نیکیاں چھپائیں؟
اِرشاد: نماز ہو یا حج ، زکوٰۃ ہو یا خیرات ، کوئی سا بھی عملِ خیر  ہواُسے  مخفی  ہی رکھنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… بستانُ المحدثین ، ص۲۵۲-۲۵۳  ملخصاً