Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
41 - 103
کر رقم بھیجا کرتے  تھے کہ ان غُربا  کو بھی خبر نہ ہوتی کہ یہ  مال کہاں سے آتا ہے؟مگر جب آپ کا وِصال ہو گيا اور رات میں پوشیدہ ملنے والا  مال غُربا  نے نہ پایا توان کو پتا چلاکہ یہ مال بھیجنے والے حضرتِ سَیِّدُنا امام زينُ العابدينرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  تھے۔حضرتِ سَیِّدُنا شیبہ بن نَعامَہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہوا تو لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ 100 گھروں کی کفالت فرمایاکرتے تھے۔(1)
میرا نام  کسی پر ظاہر نہ فرمائيں
اِسی طرح ایک مرتبہ حضرتِ  سَیِّدُنا ابو اسمٰعیل بن نُجید  نیشاپوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے  شیخ ابو عثمان حِیریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کو مجاہِدین کے لیے کچھ رقم کی ضرورت  پڑی لیکن کہیں سے کچھ اِنتظام نہ ہوسکا، تو شیخ نے سَیِّدُنا ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد سے اس ضَرورت کو بیان فرمایا۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فوراً دوہزار دِرہموں کی تھیلیاں لا کر شیخ کے قدموں پر ڈال دیں۔ شیخ بیحد خوش ہوئے اور بھری مجلس میں اس کا اِعلان فرما دیا اور لوگوں نے خوب واہ وا کی مگر ابنِ نُجید عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمَجِیْد کو انتہائی صدمہ ہواکہ افسوس! میرا یہ عملِ خیر لوگوں پر ظاہر ہو گیا ۔بے تابانہ بھری مجلس میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… سير اعلام النبلاء ، علی بن ابی الحسین...الخ ،۵/۳۳۶-۳۳۷  ملخصاً