Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
37 - 103
اِرشاد:جس کو واقعی اپنی نیکیاں چھپانے کا شوق اور رِیاکاری کی تباہ کاریوں سے بچنے کا خوف ہوتو وہ خود ہی  اپنے لیے راہیں نکال لیتاہے۔ جب انسان کو  کسی اچھے کام کا جذبہ ہو اور وہ اس  کے لیے پوری کوشش کرے تو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ  اسے  کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتا ہے چُنانچہ پارہ21 سورۃُ العنکبوت  کی آیت نمبر69 میں اِرشادِ ربُّ العباد ہے: وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ وَ اِنَّ اللہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿٪۶۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضَرور ہم انہیں  اپنے راستے دکھا دیں گے اور بے شک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے ۔
رہی بات نفلی روزہ دار کی کہ وہ اپنا روزہ کیسے چھپائے؟تو اس کےلیے عرض ہے کہ  روزہ ایک باطِنی عبادت ہے جب تک روزہ دار خود  نہ  بتائے تو کسی دوسرے کو اس کے روزہ دار ہونے کا علم نہیں ہوتااس لحاظ سے یہ تو ہے ہی پوشیدہ عمل اَلبتہ ایسے افعال سے بچا جائے جن سے روزہ دار ہونے کا دوسروں کو علم ہو مثلاً بار بار تھوکنا ،ہونٹوں کو خشک رکھنا وغیرہ۔ہاں!   اجتماعی طور پر جہاں نفلی روزے رکھنے  کا اہتمام ہو وہاں اپنے روزوں کو پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں ہوتا اور اس میں حرج بھی نہیں کیونکہ جو مجبور ہے