Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
35 - 103
ہمارے اَئمہ(اَ۔اِمْ۔مَہ) حضرات امام کے بجائے خطیب  کے لقب کو پسند کرتے ہیں شاید اس لیے کہ ہمارے مُعاشرے میں امام کے بجائے خطیب کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اسی طرح خطیب صاحب کا بلاضرورت یہ کہنا کہ”فقیر فُلاں مسجد میں جُمعہ پڑھاتا ہے۔“اس میں بھی حُبِّ جاہ کا عنصر ہو سکتا ہے ورنہ یوں بھی  کہا جا سکتا ہے کہ ”فقیر فُلاں مسجد میں جُمعہ ادا کرتا ہے۔“اسی طرح بیان میں بلاضَرورت  اس طرح کے جملے کہنا کہ ”کئی دن سے مسلسل بیانات کے سبب گلا ساتھ نہیں دے رہا“،” آج ہی فُلاں مُلک یا شہر کے دورے سے واپسی ہوئی ہے“وغیرہ وغیرہ  مناسب نہیں۔ 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناًحافِظ وقاری اور امام وخطیب ہونا کوئی معمولی بات نہیں یہ تو بَہُت بڑی سعادت ہے۔ احادیثِ مبارکہ  میں ان کے بڑے فضائل بیان ہوئے ہیں لہٰذا ان حضرات کو چاہیے کہ اپنے اندر اِخلاص پیداکریں تاکہ ان فضائل کو حاصل کرسکیں۔ لوگوں کو دِکھانے ، اپنی علمیت کی دَھاک بٹھانے اور اپنا نام کمانے  سے ہردَم بچنے کی کوشش کریں  کہ یہ ریا کاری ہے اور ریاکاروں کے لیے  ہلاکت ہی ہلاکت ہے چُنانچہ نبیوں کے سلطان ،رحمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:(قیامت کے دن) ایک وہ شخص جس نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن پڑھا، وہ حاضر کیا جائے گا (اللہتعالیٰ)اس کو  نعمتیں یاد دلائے گا،وہ نعمتوں کو پہچانے گا،اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرمائے گا:ان نعمتوں کے مقابلے میں تو نے کیا عمل کیا ہے؟ کہے گا: میں نے تیرے لیے علم سیکھا ، سکھایا اور