ضائِع ہو جاتا ہے۔ہمارے مُعاشرے میں متذکَّرہ بالا لوگوں کو عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتااوراحترام کی جگہ بٹھایا جاتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے مگر لوگ جس کی عزت کریں اوراس کے آگے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں تو اسے اپنے نفس پر قابو رکھنا اور حُبِّ جاہ سے بچانا ناممکن تو نہیں اَلبتہ مشکِل ضَرور ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے مُعاشرے میں عموماً یہ کمزوریاں پائی جاتی ہیں کہ مؤذِّن صاحب اپنے آپ کو مؤذِّن کے بجائے نائب امام کہنا اور کہلوانا پسند کرتے ہیں حالانکہ مؤذِّن ہونا بھی بَہُت بڑی سعادت ہے کہ اسی سعادت نے مؤذِّنِ رسول حضرتِ سَیِّدُنا بلالرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کعبۂ مشرفہزَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً کی چھت پراذان دینے کے شرف سے بار یاب کیا مگر افسوس صد کروڑ افسوس! دُنیوی عزت و حُبِّ جاہ کے طلبگار مؤذِّن کہلوانا گوارا نہیں کرتے۔یونہی بعض مؤذِّنین مائیک پر ٹھہر ٹھہر کر اور خوبصورت لہجے میں اذان دیتے ہیں اور بغیر مائیک کے اذان دینے کا انداز ہی بدل جاتا ہے ۔
اِسی طرح امام صاحب بھی امام کہلوانے کے بجائے خطیب صاحب بلکہ بعض تو جب تک خطیبِ اعظم نہ کہلوائیں ان کے دل کو تسکین نہیں ہوتی حالانکہ امام ہونا وہ شرفِ عظیم ہے کہ جسے بارگاہ ِ مصطفٰے سے فیض ملا ہے لیکن