دِل میں یہ خواہش نہ رکھنا سب کریں میرا ادب
ڈر کہیں ناراض ہو جائے نہ تجھ سے تیرا رب (وسائلِ بخشش)
امام، مؤذِّن اور خطیب رِیاکاری سے کیسے بچیں؟
عرض:حافظ وقاری ،امام، مؤذِّن اور خطیب رِیاکاری سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
اِرشاد:کسی بھی کام کو بجالانے یا اس سے بچنے کے لیے اس کا علم ہونا ضروری ہے جب تک اس کے بارے میں علم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کام کے کرنے یا اس سے بچنے میں کماحقّہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔اس لیے ریاکاری سے بچنے کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ریاکاری کسے کہتے ہیں؟ریاکاری کی تعریف یہ ہے کہ ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے علاوہ کسی اور اِرادے سے عبادت کرنا۔‘‘گویا عبادت سے یہ غَرض ہو کہ لوگ اس کی عبادت پر آگاہ ہوں تاکہ وہ ان لوگوں سے مال بٹورے یا لوگ اس کی تعریف کریں،اسے نیک آدمی سمجھیں یا اسے عزت وغیرہ دیں۔(1) رِیاکاری اِخلاص کا مُتضاد ہے یعنی اگر محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے کوئی کام کیا جائے تو اِخلاص پر مبنی ہو گا اور اگر شُہرت یا نُمُود و نَمائش کے لیے کیا جائے تو ریاکاری کی نذر ہو جائے گا جس کے نتیجے میں نیک عمل کا ثواب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… اَلزَّواجر،الباب الاوّل فی الکبائر الباطنیة...الخ ،الکبیرةُ الثانیة الشرک الاصغر...الخ ،۱ /۸۶