میں اپنا سیِّد ہونا ظاہر کر دیں کہ جھوٹ سے بچنا ضَروری ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ عاجزی وانکساری کرتے ہوئے مُنْہ سے جھوٹ نکل جائے اور گناہ کا وَبال سر پر آپڑے۔اگرکوئی لوگوں میں عظمت پانے کے لیے اس کا اِظہار کرے تو یہ جائزنہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ عظمت کا دارومدار محض نَسَب پر نہیں بلکہ اصل بنیاد تقویٰ وپرہیزگاری پر ہے جیسا کہ پارہ 26 سورۃُ الحجرات کی آیت نمبر13میں اِرشادِ ربُّ العباد ہے:
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ؕ
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والاوہ جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
لہٰذا فخر کے اِظہار کے لیے حَسَب ونَسَب بیان کرنا ،لوگوں سے عزت و عظمت چاہنا اور دل میں یہ خواہش رکھنا کہ لوگ میرااَدب واحترام بجالائیں یہ ممنوع ہے ایسے لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ اگر کوئی سید صاحب اپنا سید ہونا ظاہر کرتے ہوں تو ہمیں ان کے متعلق بدگمانی کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ دِلوں کا حال ربِّ ذُوالجلال کو معلوم ہے، ہم پر لازِم ہے کہ حسنِ ظن سے کام لیں۔