Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
31 - 103
صاحب اور حاجی صاحب کہہ  کر پکاریں، دُعاؤں کی اِلتجائیں کریں تو  اس صورت میں منع  ہے اوراگر  رِیا  کی نیّت  نہ ہو تو منع نہیں جیسے اپنے نام کے ساتھ حافِظ،قاری یا حاجی اس نیت سے لکھے یا بولے تاکہ کسی ادارے یا علاقے میں اپنے ہم ناموں میں اس کی جلد پہچان ہو سکے اور تعارف میں آسانی ہو تو حَرج نہیں۔یونہی کو ئی دوسرا  شخص اس کے نام ساتھ یہ اَلفاظ بولتا  یا لکھتا ہے تو کوئی مُضایَقہ نہیں  مگر اپنے نفس پر قابو رکھے اور  اس پر لوگوں کے سامنے  خوشی کا اِظہار نہ کر ے  بلکہ اپنی خطاؤں اور عیبوں  کو  یاد رکھے۔  
آج بنتا ہوں معزز جو کھلے حشر میں عیب	
آہ! رُسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب!	(وسائلِ بخشش)
اپنے ”سیِّد “ہونے کا اِظہار کرنا کیسا؟
عرض:ساداتِ کرام کا اپنے ”سیِّد “ہونے کا اِظہار کرنا کیسا ہے ؟
اِرشاد:ساداتِ کرام کے اپنے آپ کو سیِّد ظاہر کرنے میں اگر فخر میں پڑجانے کا خوف نہ ہو تو ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر احتیاط اپنے آپ کو پوشیدہ رکھنے ہی میں ہے کیونکہ بَسااوقات لوگ ”سیِّد صاحب ،سیِّد صاحب“ کہہ کر تعظیم شروع کر دیتے ہیں تو پھر شیطان بھی حملہ آور ہو جاتا ہے یوں نفس پر قابو پانا دُشوار ہو جاتا ہے اَلبتہ اگر کوئی حَسَب ونَسَب پوچھے تو اس صورت