فرماتے ہیں:خود سِتائی(یعنی اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا) جائز نہیں مگر وقتِ حاجت، اِظہارِ حقیقت تحدیثِ نعمت ہے (یعنی بوقتِ حاجت اپنے بارے میں حقیقت کا اِظہار کرنا بھی نعمت کا چرچا کرنا ہے)۔سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بادشاہِ مصر سے فرمایا : قَالَ اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾ (پ۱۳،یوسف:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔ (1)
اگرحاجتِ شرعی نہ ہو تو بِلاوجہ اپنے نام کے ساتھ اَلقابات لگاکر بِلا واسِطہ یا بِالواسطہ اپنی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرناتاکہ لوگ بنظرِ تحسین دیکھیں اور ادب واحترام بجا لائیں یہ ممنوع ہے لہٰذااپنے نام کے ساتھ اَلقابات وغیرہ لگانے سے بچنا چاہیے کہ اس سے حافظِ قرآن ہونے اور حج کی سعادت سے مُشرّف ہونے کا پتہ چلتا ہے اور یہی نیکیوں کا اِظہار ہے۔ بہرحال اپنے نام کے ساتھ اَلقابات لگانے کا دارومدار نیّت پر ہے۔ اگر کوئی اپنے نام کے ساتھ اس نیت سے حافِظ ،قاری اور حاجی بولنے یا لکھنے کا اِہتمام کرے کہ لوگ اسے بنظرِ تحسین دیکھیں، مَاشَآءَاللہ بولیں،احتِرامًا حافِظ صاحِب،قاری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص۱۴۱