روزہ دار ہوں۔(1)
اِس حدیثِ پاک کے تحت حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ عبدُالرَّء ُوْف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی فرماتے ہیں:روزہ دار کوحکم دیا گیا کہ وہ اپنے روزے کا عذر پیش کرتے ہوئے دعوت قبول نہ کرے اگرچہ نفلی روزے کا پوشیدہ رکھنا مستحب ہے مگر یہاں اس کے اِظہار کا حکم دیا گیا تاکہ ان دونوں کے درمیان بغض وعداوت پیدا نہ ہو۔(2)
اپنے نام کے ساتھ اَلقابات لگانا
عرض:اپنے نام کے ساتھ حافِظ،قاری،حاجی،علّامہ اورمفتی وغیرہ لگانا کیسا ہے؟ نیزکیا اَلقابات لگانے سے بھی دوسروں پر نیکیوں کا اِظہار ہوتا ہے؟
اِرشاد:اپنے نام کے ساتھ بلاضرورت اَلقابات لگانا دراصل اپنی خوبیاں بیان کرکے اپنے مُنْہ سے اپنی تعریف کرنا ہے اور یہ جائزنہیں۔ہاں! اگر اس کی حاجت ہو تو وقتِ حاجت، بقدرِضَرورت تحدیثِ نعمت کے طور پر یا کسی اور دُرُست نیت سے ان خوبیوں کا اِظہار کیا جا سکتاہے جیساکہ میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنَّت،مجدِّدِ دین وملت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مُسلِم،کتاب الصیام،باب الصیام یدعی...الخ ، ص۵۷۹ ،حدیث:۱۱۵۰
2…… فيضُ القدير ، حرف الھمزة ،۱/۴۴۵ ،تحت الحديث: ۶۰۸ ملخصاً