Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
28 - 103
لیے جھوٹ بولنے کی اجازت ہے؟
اِرشاد: اپنی نیکیوں کو رِیاکاری کی تباہ کاری سے بچانے کے لیے پوشیدہ رکھنا ضروری ہےمگر نیکیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں۔ اگر کوئی دوسرا پوچھے تو اس کے پوچھنے پر بقدرِ ضَرورت اپنی نیکی کا اِظہار کر  دیجیے، مثلاً کسی نے  آپ سے حج کے متعلق پوچھا کہ کیا آپ نے حج ادا کر لیاہے؟  اگر آپ نے حج کیا ہوا ہے تو جواباً  کہہ دیجیے کہ جی ہاں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ  اس کو اپنے حج وعمرہ کی تعداد گنوانا شروع کر دیں ۔ایسے ہی اگر آپ نے روزہ رکھا ہوا ہے تو کسی نے آپ سے روزے کے متعلق پوچھ لیا تو آپ جواباً کہہ  دیجیے کہ میں روزے سے ہوں مگر ایسا نہ ہو کہ آپ اس کو  تفصیلات بتانا  شروع کر دیں کہ جناب!آپ توآج کا پوچھ رہے ہیں،میں تو لگاتارتین مہینوں(رجب،شعبان اور رَمَضان)کے روزے رکھتا ہوں اور یہ بَرسوں سے میرا معمول ہے۔ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ درحقیقت اپنی نیکیوں کا چرچا  کرنا ہے۔بہرحال بقدرِ ضَرورت اپنی نیکیوں کے بیان کرنے میں کوئی مُضایَقہ نہیں۔حدیثِ پاک میں ہے:جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اُسے چاہیے کہ کہہ دے کہ میں