وقت حتَّی الْاِمکان دل کو دوسروں کے خیالات سے پاک کرے کہ دل اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص نظرِ کرم فرمانے کی جگہ ہے۔دُعا میں ظاہری بدن کی عاجزی وانکساری کے ساتھ ساتھ دل بھی حاضر ہو اور دُعا کی قبولیت کا یقین بھی کہ حدیثِ پاک میں ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دُعا کرو قبولیت کا یقین رکھتے ہوئے اور جان رکھو کہ بے شکاللہ عَزَّوَجَلَّکسی غافل کھیلنے والے دل کی دُعا قبول نہیں فرماتا۔(1)اِجتماعی دُعا کروانی ہو تو اس میں بھی اِخلاص کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی جائے ،لوگوں کو دِکھانے اور سُنانے کے لیے رِقَّت پیدا کرنے سے اِجتناب کیا جائے ،ہاں! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاؤں اور اپنی خطاؤں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے خود بخود رِقَّت پیدا ہو جائے تو اس میں حرج نہیں۔اس طرح دُعا مانگیں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِخلاص بھی نصیب ہو گا اور دُعا بھی قبول ہو گی۔
ہمیشہ نگاہوں کو اپنی جھکا کر
کروں خاشِعانہ دُعا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)
نیکیوں کو چھپانے کے ليے جھوٹ بولنا کیسا؟
عرض: کسی کے پوچھنے پر اپنی نیکیوں کو ظاہر کر دیا جائے یا نیکیوں کو چھپانے کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… تِرمِذی ،کتاب الدعوات ، باب ماجاء فی جامع الدعوات...الخ،۵/۲۹۲، حدیث:۳۴۹۰