اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اپنے رب سے دُعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بے شک حد سے بڑھنے والے اُسے پسند نہیں۔
اِسآیتِ مُبارَکہ کے تحت حضرتِ علّامہ محمد بن احمد انصاری قُرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں: لفظ”خُفْیَۃً“سے مُراد دِل میں دُعا کرنا ہے تاکہ ریاکاری کی تباہی سے بچا جا سکے ۔اسی وجہ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے برگزیدہ بندے حضرتِ سَیِّدُنا زکریا عَلَیْہِ السَّلَام کے متعلق خبر دیتے ہوئے ان کی تعریف قرآنِ پاک میں کچھ اس طرح بیان فرمائی:﴿ اِذْ نَادٰی رَبَّہٗ نِدَآءً خَفِیًّا ﴿۳﴾ ﴾(1) (پ۱۶،مریم:۳) ترجمۂ کنز الایمان:جب اس نے اپنے رب کو آہستہ پکارا۔
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظیم ہے:آہستہ دُعا کرنا بلند آواز کی ستَّر دُعاؤں کے برابر ہے ۔(2)
رہی بات دُعا میں اِخلاص پیداکرنے کی تو اس کے لیے ضَروری ہے کہ پہلے ان اَسباب کودورکیاجائے جو اِخلاص ختم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔دُعامانگتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… تفسیرِ قرطبی ، پ ۸،اَلاعراف ، تحت الآية:۵۵ ،۴ /۱۶۱
2…… فِرْدَوْسُ الاخبار ،باب الدال ،۱/۳۸۷ ،حدیث:۲۸۶۹