ایک اور حدیث میں اِرشاد فرمایا:ظاہِری عمل کے مُقابلے میں پوشیدہ عمل افضل ہے۔(1) مگر ایسا شخص کہ جس کی پَیروی کی جاتی ہو وہ لوگوں کو رَغبت دِلانے کی نیّت سے ایسا عمل ظاہِر کر سکتا ہے جبکہ اِس اِظہار میں رِیا کی آمیزش نہ ہو۔ اِس طرح اِخلاص کے ساتھ عمل کے اِظہار سے وہ ثوابِ عظیم کا حقدار ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے:جب عَلانیہ عمل کی پَیروی کی جائے تو وہ(ظاہر کیا جانے والا عمل )چُھپ کر کیے جانے والے عمل سے افضل ہے۔(2)
پوشیدہ دُعا افضل ہے یا عَلانیہ؟
عرض:پوشیدہ دُعاافضل ہے یا عَلانیہ ؟نیزدُعا میں اِخلاص کیسے حاصل ہو ؟
اِرشاد:دُعا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنے اور مُناجات کرنے کا نام ہے لہٰذا اس میں پوشیدگی ہی بہترہے ۔ پوشیدہ طور پر دُعا کرنے میں یکسوئی اور اِخلاص کی نعمت میسر ہوتی ہے نیز ریاکاری سے بھی حفاظت ہوتی ہے۔قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں پوشیدہ طور پر دُعا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے چُنانچہ پارہ 8 سورۃُالاعراف کی آیت نمبر55 میں اِرشاد ہوتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… شُعَبُ الْاِیمان ، باب فی السرور بالحسنة والاغتمام بالسیئة ،۵ /۳۷۶ ، حدیث:۷۰۱۲
2…… شُعَبُ الایمان ، باب فی السرور بالحسنة والاغتمام بالسیئة ،۵/۳۷۶ ،حدیث:۷۰۱۲