Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
23 - 103
اِرشاد:عبادات میں عَلانیہ یا پوشیدہکے افضل ہونے کے اعتبار سے متعدد صورتیں ہیں جن کا دارومدار نیّت پر ہے۔حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علاؤ الدین علی بن محمد بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:اس میں عُلَماء کا اختلاف ہے کہ عبادات میں اِظہار افضل ہے یا اِخفا۔بعض کہتے ہیں کہ طاعات و عبادات میں اِخفا افضل ہے کیونکہ  اس میں  رِیا سے  حفاظت ہےاور بعض کہتے ہیں کہ عبادات میں اِظہار افضل ہے تاکہ دوسرے اس کی پیروی کر کے اس جیسا عمل کریں۔حضرتِ سَیِّدُنا شیخ محمد بن عبدالحکیم  ترمذیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  اس میں  درمیانی صورت اِختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر آدمی کو اپنے نفس پر رِیا کا اندیشہ  ہو تو عبادات کو پوشیدہ طور پر ادا کر نا  بہتر ہے تاکہ عمل باطل ہونے سے  محفوظ رہے اور اگر رِیا سے دل  بالکل صاف ہو اور رِیا کے شائبہ سے محفوظ ہونے کا پختہ یقین ہو تو اس کے حق میں   اِظہار افضل ہے تاکہ اس کی اِقتدا  کا فائدہ حاصل ہو۔ بعض علمائے کرام  فرماتے ہیں: فرض عبادات میں اِظہار افضل ہے پس فرض نماز مسجد میں ادا کرنا گھر میں ادا کرنے سے افضل ہے اور نفل نماز گھر میں ادا کرنا مسجد میں ادا کرنے سے افضل ہے۔ اسی طرح  زکوٰۃ ظاہر کر کے دینا پوشیدہ دینے سے  افضل ہےاور پوشیدہ نفلی صدقہ عَلانیہ سے افضل ہے۔اسی پر دیگر عبادات کو قیاس کر لیجیے(یعنی فرض