Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
21 - 103
شیطان انسان کے کُھلے  دُشمن ہیں جو انسان کو نیکیاں کرنے نہیں دیتے اور اگر  ہمت کر کے کوئی  نیکی کر بھی لی تو یہ اسے پوشیدہ نہیں  رہنے دیتے۔ شیطان  کے بہکاوے  میں آکر  انسان کے دل میں اپنی نیکیوں کے اِظہار کی خواہش پیدا ہوتی ہے تو  وہ لوگوں  کو  اپنے نیک اَعمال بتا کر ، نیک نامی کی داد پا کر تکبر، حُبِّ جاہ اور رِیاکاری کی تباہ کاری میں جا گرتا ہے۔ اس لیے جب بھی کوئی نیک عمل کرنے کی سعادت نصیب ہو تو اس نیک عمل کو کر لینے کے  بعد پوشیدہ رکھنے ہی میں عافیت ہے کہ دِکھاوے  وغیرہ  کی نحوست سے  نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں۔اس لحاظ سے اپنے نیک اَعمال کو پوشیدہ رکھنا اَعمال بجا لانے سے زیادہ مشکل ہے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا ابودَرداءرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبیٔ مکرَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے: بے شک عمل کر کے اسے ریاکاری سے بچانا عمل کرنے سے زیادہ مشکل ہے اور آدمی کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے لیے ایسا نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے جو تنہائی ميں  کيا  گيا ہوتا ہے اور اس کے لیے ستّر گنا ثواب بڑھا ديا جاتا ہے۔ پھر شيطان اس کے ساتھ لگا رہتاہے(اوراسے  اُکساتا رہتا ہے ) يہاں تک کہ  آدمی اس عمل کا لوگوں کے سامنے ذِکر کر کے اسے ظاہر کر دیتا ہے تو اب اس کے لیے یہ عمل(مخفی کےبجائے) عَلانیہ لکھ ديا