Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
19 - 103
 رکھنا۔ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے کہ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ نیکی کرے تو نیکی کر کے بھول جائے۔ اِحسان  جَتلانے، شکریہ ادا کرنے  کا طالِب  ہونے  اور اس سے اچھا بدلہ ملنے کی قطعاً اُمید نہ رکھے ۔ایسے لوگوں کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اَجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے چنانچہ پارہ 3 سورۃُالبقرہ کی آیت نمبر262 میں اِرشادِ  ربُّ  العباد ہے: اَلَّذِیۡنَ یُنۡفِقُوۡنَ اَمْوٰلَہُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوۡنَ مَاۤ اَنۡفَقُوۡا مَنًّا وَّلَاۤ اَذًیۙ لَّہُمْ اَجْرُہُمْ عِنۡدَ رَبِّہِمْۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَیۡہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوۡنَ﴿۲۶۲﴾
ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں  پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں  ان کا نیگ (اجر وثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
اگر کوئی کسی کے ساتھ نیکی  کرے پھر اِحسان جَتائے ،دوسروں کے سامنے اس کا اِظہار کرے  کہ ہم نے تیرے ساتھ ایسے ایسے سلوک کیے اور اس کو  عار دِلائے کہ ’’تو مُحتاج و نادارتھا ،مُفلِس و لاچار تھا،ہم نے تیرے ساتھ کیا کیا بھلائی کی،آج تو ہمیں یہ صِلّہ دیتا ہے، ہمیں پوچھتا ہی نہیں، ہمیں سلام کرنا گوارا نہیں کرتا، ہمارے اِحسانات کو بھول گیا ہے، نمک حرام ، اِحسان فراموش‘‘وغیرہ وغیرہ یا اور کسی طرح دباؤ ڈالے تو ایسا کرنے سے نیکی کا اَجر