Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
101 - 103
دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1197 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’بہارِ شریعت‘‘جلد سِوُم صَفْحَہ178پر ہے: حدیث کے راویوں اور مقدّمے(CASE) کے گواہوں اور مصنفین پر جرح کرنا اور ان کے عُیُوب بیان کرنا جائز ہے اگر راویوں کی خرابیاں بیان نہ کی جائیں تو حدیثِ صحیح اور غیرِ صحیح میں امتیاز نہ ہو سکے گا۔ اسی طرح مصنفین کے حالات نہ بیان کیے جائیں تو کُتبِ مُعتَمدہ وغیرِمُعتَمدہ(یعنی قابلِ اعتماد وناقابلِ اعتماد کتابوں)میں فرق نہ رہے گا ۔ گواہوں پر جرح نہ کی جائے تو حُقُوقِ مسلمین کی نگہداشت (دیکھ بھال)نہ ہوسکے گی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دوسروں کی عیب پوشی کرتے ہوئے  اپنے عیبوں پر نظر رکھنی چاہیے۔جب کبھی دوسرے کے عیب بیان کرنے کو جی چاہے اُس وقت اپنے عُیُوب کی طرف مُتَوجِّہ ہو کر انہیں  دُورکرنے میں لگ جانا چاہیے کہ یہ بَہُت بڑی سعادت مندی ہے۔سرکارِ عالی وقار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ خوشبودار ہے: اُس شخص کے لیے خوشخبری ہے جسے اس کے عیوب نے لوگوں کی عیب جوئی سے پھیر دیا۔ (1) حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہ اِبنِ عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا فرمان ہے:جب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… فِرْدوسُ الْاخبار ، باب الطاء ،۲/۴۶ ، حدیث:۳۷۴۲