اسے اختیار ہے اور افضل یہ ہے کہ امر کرے۔ (۶) اگر اندیشہ ہے کہ ان لوگوں کو امربالمعروف کریگا تو قتل کر ڈالیں گے اور یہ جانتے ہوئے اس نے کیا اور ان لوگوں نے مار ہی ڈالا تو یہ شہید ہوا۔(1)
اگر کوئی سمجھانے کے باوجود نہیں مانتا تو اسےاپنے حال پر چھوڑ دیجیے، اس کی پوشیدہ بُرائی کا چرچا نہ کیجیے کہ بُری بات کا چرچا کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ پسند نہیں فرماتا چُنانچہ پارہ 6 سورۃُ النساء کی آیت نمبر148میں اِرشادِ رَبُّ العباد ہے: لَایُحِبُّ اللہُ الْجَہۡرَ بِالسُّوۡٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنۡ ظُلِمَ ؕ وَکَانَ اللہُ سَمِیۡعًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۸﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ پسند نہیں کرتا بُری بات کا اعلان کرنا مگر مظلوم سے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
اِس آیتِ کریمہ کے تحت تفسیرِ خازن میں ہے :عُلَما فرماتے ہیں: لوگوں کے پوشیدہ اَحوال کا ظاہرکرناجائزنہیں کیونکہ یہ لوگوں کے اس شخص کی غیبت میں اور خود اس شخص کےتہمت میں مبتلا ہونے کا سبب ہےلیکن مظلوم کے لیے جائزہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو بیان کرے پس وہ چور یا غاصِب کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے میرا مال چُرایا یا غصب کیا وغیرہ۔(2) البتہ بعض عیوب ایسے ہوتے ہیں جن کا بیان کرنا جائز ہوتا ہے جیسا کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… فتاویٰ ھندیة ،کتاب الکراھیة ،الباب السابع عشر...الخ ،۵/۳۵۲-۳۵۳
2…… تفسيرِخازن ، پ۶،النسآء ، تحت الآية:۱۴۸ ،۱/۴۴۴