سے ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص تناسخ یعنی آواگون کا قائل ہے کیونکہ وہ کہتا ہے کہ اپنے اعمال کے مطابق بارِ دیگر(دوسری بار)پیدا ہونا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر اَعمال اچھے ہوں تو اس کی رُوح اچھے جسم میں جنم لیتی ہے اور بُرے اعمال ہوں تو جانور وغیرہ کے جسم میں جنم ہوتا ہے(یہ تناسخ ہے)اور تناسخ کا قول باطلِ محض ہے۔مسلمان تو مسلمان کسی اَہلِ کتاب یہود ونصاریٰ کے نزدیک بھی دُرُست نہیں۔قرآن کا حکم تو یہ ہے:
ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تُبْعَثُوۡنَ﴿۱۶﴾ (پ۱۸،اَلْمُؤْمِنُوۡن:۱۶)
ترجَمۂ کنزُالایمان:پھر تم سب قیامت کے دن اُٹھائے جاؤ گے۔
اورفرماتاہے:
مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ﴿۵۵﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۵۵)
ترجَمۂ کنزُالایمان:ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔
یعنی مرنے کے بعد پھر زمین سے اُٹھائے جاؤ گے ۔یہ عقیدہ مسلمانوں کاہے کہ مرنے کے بعد بعث (یعنی اُٹھنا) ہو گا۔ اپنی اپنی قبروں سے اُٹھائے جائیں گے، نہ یہ کہ ایک رُوح مُتَعدَّد اَجسام لیتی ر ہے۔(1)بعض اوقات عورتیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… فتاویٰ امجدیہ ،۲/۴۴۳-۴۴۴، حصہ ۴