کشا،علیُّ المرتَضٰی شیرِ خداکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:جب تم میں سےکوئیاللہ عَزَّوَجَلَّکے خوف سے روئے تو وہ اپنےآنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے بلکہ رُخساروں پر بہہ جانے دے کہ وہ اسی حالت میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔(1)
رونے والی آنکھیں مانگو،رونا سب کا کام نہیں
ذکرِ محبت عام ہے لیکن،سوزِ محبت عام نہیں
اَنبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تعداد مقررکرنا کیسا؟
عرض:لوگوں میں مشہور ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار اَنبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دُنیا میں تشریف لائے، یہ کہاں تک دُرُست ہے؟
اِرشاد:اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعدادمعین کرنا جائز نہیں،تعدادمعین کرنے کے بجائے یوں کہا جائے کہ’’کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار اَنبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دُنیا میں تشریف لائے۔‘‘دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ1250صَفحات پر مشتمل کتاب بہارِ شریعت جلد اوّل صَفْحَہ 52پر ہے:اَنبیاءِ کرام(عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) کی کوئی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… شعب الایمان ،باب فی الخوف من اللّٰہ تعالٰی ،۱/۴۹۳-۴۹۴،حدیث: ۸۰۸