جہنم میں ڈال دیا جائے، ہائے میری ہلاکت!ہائے میری رُسوائی(وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ)یہاں پَہُنچ کراپنی آنکھیں کھول دیجیے اور اپنے آپ سے مخاطب ہو کر یوں کہئے کہ’’ابھی یہ وقت نہیں آیا،ابھی تو میں دُنیا میں ہوں،اس مختصر سی زندگی کو غنیمت جانوں اور اپنی آخرت سَنوارنے کی کوشِش میں مصروف ہوجاؤں۔‘‘پھر پختہ اِرادہ کیجیے کہ’’میں اپنے ربّ تعالیٰ کا اِطاعت گزار بندہ بننے کے لیے اس کے اَحکامات پر ابھی اور اِسی وقت عمل شروع کر دوں گا تاکہ کل میدانِ محشرمیں مجھے پچھتانا نہ پڑے ۔‘‘
کچھ نیکیاں کما لے جلد آخرت بنا لے
کوئی نہیں بھروسا اے بھائی! زندگی کا (وسائلِ بخشش)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فکرِمدینہ کے دوَران ہو سکے تو رونے کی کوشش کیجیے اور اپنے آنسوؤں کو بہنے دیجیے کہ جو روتا ہے اس کا کام ہوتا ہے۔اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صُورت ہی بنا لیجیے کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غُیُوب،مُنَزَّہٌ عَنِ العیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا:رویاکرو،اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی صُورت ہی بنا لیا کرو۔(1)اَمیرُالْمُؤمِنِینحضرتِ سیِّدُنا مولائےکائنات،مولامشکل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… ابنِ ماجہ،کتاب الزھد،باب الحزن والبکاء،۴/۴۶۶-۴۶۷ ، حدیث :۴۱۹۶