بتا ہی نہیں پاتے،اس بات کا اندازہ مدنی قافلے ہی کی اس مدنی بہار سے لگا لیجیے چنانچہ”ایک مرتبہ نیوی کے ایک افسر نے عاشقانِ رسول کے ہمراہ دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کی سعادت حاصل کی۔دورانِ سفر اِصلاح کی نیت سے دُعائے قنوت سنی گئی تو انہوں نے بہت سخت غلطی کی۔جب اسلامی بھائی نے ان کی اِصلاح کی تو کہنے لگے:اس مدنی قافلے کی برکت سے مجھے اپنی غلطی کا پتہ چلا ہے،میں تو آج تک اسی طرح پڑھتا آ رہا ہوں۔“
دوسری بات یہ ہے کہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا مقصد چونکہ اپنی اِصلاح کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنا بھی ہے۔ذراآپ اپنے سے پوچھئے!کیا آپ نے ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کر لی ہے ؟کیا آپ کو جو دُعائیں،سُنَّتیں اور دِینی مسائل یاد ہیں سب کو سکھا دئیے ہیں؟یقیناً آپ کا جواب نفی میں ہوگا لہٰذا ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کر کے ہی ہم اپنے اس عظیم مَدَنی مقصد میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔اگرآپ کو یہ سنَّتیں اور دُعائیں یاد ہیں تو کیا انہیں دوبارہ دُہرانے نیز کسی اور کو سکھانے کی بھی حاجت نہیں ؟ کیاانہیں دُہرانے اور دوسروں کو سکھانے پر ثواب نہیں ملے گا؟جب