پہن کر دوڑ لگاتے یا ورزش کرتے ہیں کہ جس طرح”(بِلاحاجتِ شرعی) کسی کے سامنے سِتْر کھولنا حرام ہے ۔“ (1)ایسے ہی بِلاضرورت کسی کے سِتْر کو دیکھنا بھی فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُالسَّلَامنے حرام لکھا ہے۔(2)سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:اللہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہو دیکھنے والے پر اور اس پر جس کی طرف دیکھاجائے۔ (3) اس رِوایت سے نیکر اور چڈی پہن کرنہانے،فُٹ بال،کبڈی وغیرہ کھیلنے اور ان کاتماشا دیکھنے والے بھی عبرت حاصِل کریں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں شرم و حیا کا پیکر بنائے اور اپنے ہر ہر عضو کا قفلِ مدینہ لگانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مَدَنی قافلے میں سفر نہ کرنے کا ایک وسوسہ
عرض:اگر کوئی اِسلامی بھائی اس وجہ سے مَدَنی قافلے میں سفر نہ کرتا ہو کہ” مَدَنی قافلے میں ہر بار وہی سُنَّتیں اور دُعائیں سکھائی جاتی ہیں“ تو کیا کرناچاہیے؟
اِرشاد:مدنی قافلے میں بار بار وہی سنتیں اور دُعائیں سکھائی جاتی ہیں اس وجہ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… ھدایة،کتاب الشھادات،باب من تقبل شھادتہ ومن لا تقبل،۳/۱۲۳
2…… اَلاِخْتِیار لِتعلیلِ المُختار،کتاب الکراھیة ،۴ /۱۶۳ ماخوذاً
3…… شُعَبُ الاِیمان ، باب الحیاء،فصل فی الحمام،۶/۱۶۲،حدیث:۷۷۸۸