عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی کسی کے سامنے ران نہ کھولو اور نہ بِلا ضرورت تنہائی میں کھولو رب تعالیٰ سے شرم کرو کیونکہ ران ستر ہے اس سے آج کل کے نیکر پہننے والے عبرت پکڑیں جن کی آدھی رانیں کھلی ہوتی ہیں اور وہ بے تکلّف لوگوں میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ایمانی غیرت نصیب کرے۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ گھٹنے اور رانیں ستر میں داخل ہیں اور”لوگوں کے سامنے سِتْر کھولناحرام ہے۔“(2)لہٰذااگرکوئی نیکر پہن کر نہائے تو دوسرے لوگوں کے لیے لازِم ہے کہ اُس کے کھلے ہوئے گھٹنوں اور رانوں کو دیکھنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔
جہاں بدنگاہی ہوتی ہو وہاں سیر کیلئے جانا کیسا ؟
عرض:کیاایسی جگہ سیرکے لیے جا سکتے ہیں جہاں لوگ نیکر پہن کر تَیراکی یاورزش کرتے ہوں؟
اِرشاد:ایسی جگہ سیر وتفریح کے لیے ہرگز نہ جایا جائے جہاں یقینی طور پر دوسروں کے کھلے سِتْرپر نظر پڑنے کا اندیشہ ہو مثلاً ساحلِ سَمُندر اور نَہَر پر جہاں لوگ نیکر پہن کر نہاتے ہیں ایسےہی پارک یا کلب وغیرہ میں جہاں لوگ نیکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……مرآۃ المناجیح ،۵/۱۸
……فتاویٰ رضویہ،۳/٣٠٦