شایانِ شان ہے)سے تین مٹھیاں(مزید ہوں گے)۔(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان بےحساب جنت میں داخل ہونے والوں کا صدقہ ہمیں ايمان پر اِستقامت،سکرات میں سرورِکائناتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زيارت، قبرو حشر میں راحت اور اپنی رحمت سے بے حساب مغفرت سے نواز کر جنت الفردوس میں اپنے مدنی حبيبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس عطا فرمائے۔اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لَجائے کو لَجانا کیا ہے (حدائقِ بخشش)
سُنّت کی تعریف
عرض:سُنّت کسے کہتے ہیں؟
اِرشاد:سُنّت کے لغوی معنیٰ ہیں طریقہ اور شریعت کی اِصطِلاح میں”نبیٔ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ وَالتَّسْلِیْم کے قَول ،فِعل اورسُکُوت (2) کوسُنّت کہتے ہیں اور صحابۂ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……مُسْند اِمام اَحمد،مسندالانصار،حدیث ابی امامةالباھلی...الخ،۸/۳۰۶،حدیث:۲۲۳۶۶
2……کسی نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں کوئی کام کیا یا بات کہی اورآپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اسے منع نہیں فرمایا بلکہ سکوت فرما کر اسے مقرر رکھا (تواسے ”سنتِ تقریری یا سکوت “ کہا جاتاہے)۔
(نصابِ اصولِ حدیث مع اِفاداتِ رضویہ ،ص۲۷)
کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَقوال و اَفعال پر بھی سُنَّت کا لفظ بولا جاتا ہے۔“(1)