دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں اِستقامت كا ايك بہترین ذریعہ مدنی کام بھی ہے ۔ جو اسلامی بھائی مدنی کام کرتے رہتے ہیں توان کی جان پہچان ہر خاص وعام سے ہوجاتی ہے ،اب اگر وہ کسی دن نہیں آتے تو لوگ ان کے بارے میں پوچھ گچھ کرتے ہیں کہ’’ آج فُلاں فُلاں اسلامی بھائی نہیں آئے ‘‘اور جب وہ اسلامی بھائی اگلے دن آتے ہیں تو لوگ ان سے خیریت دریافت کرتے ہیں تو یوں ایک محبت بھرا ماحول بنتا اور مدنی کاموں میں دل لگتا ہے۔ یاد رکھیے! جسے مدنی کاموں میں استقامت مل گئی تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اسے مدنی ماحول میں بھی اِستقامت نصیب ہوگی۔
مدنی کاموں اور مدنی ماحول میں اِستقامت كا ايك ذریعہ ذِمّہ داری قبول کرنا بھی ہے ۔ جب کسی باصلاحیت اسلامی بھائی کو کوئی ذِمّہ داری ملتی ہے تو وہ اپنی ذِمّہ داری کو اَحسن طریقے سے نبھانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ اپنے اس مقصد میں اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب وہ خود مدنی کام کرتا ہے کیونکہ اگر وہ خود مدنی کام نہ کرے تو کماحقہ دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی اس کی ترغیب نہیں دلا سکے گاکہ ترغیب دلانے کے لیے سراپا ترغیب بننا پڑتا ہے ۔ بہرحال ذِمہ داری لینے سے سستی جاتی اور چستی آتی ہے اور ذِمہ دار کا یہ ذہن بنتا ہے کہ اگر میں نہ گیا تو مسجد درس نہیں ہو گا یا پھر