دُرُودشریف کے ساتھ)یہ کلمات پڑھیےاِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرض اُتر جائے گا۔
(۳)حضرتِ سیِّدُنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ نمازِ جمعہ میں شریک نہ ہوسکا، حُضُورپُر نور،شافِع یوم النُّشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وجہ دریافت فرمائی تو میں نے عرض کی کہ میں نے یوحنا بن باریا یہودی کا کچھ قرض دینا تھا وہ میرے دروازے پر تاڑ لگائے بیٹھا تھا کہ میں باہر نکلوں اور وہ مجھے حراست میں لے لے اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو نے سے روک دے۔حُضُور پُرنور،شافِع یوم النُّشورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”اے معاذ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)!کیا تم پسند کرتے ہو کہاللہتعالیٰ تمہارا قرض ادا فرمائے؟‘‘ میں نے عرض کی: جی ہاں! توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:ہر روز یہ پڑھا کرو : قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنۡ تَشَآءُ وَتَنۡزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ۫ وَتُعِزُّ مَنۡ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنۡ تَشَآءُؕ بِیَدِکَ الْخَیۡرُؕ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۲۶﴾ تُوۡلِجُ الَّیۡلَ فِی النَّہَارِ وَتُوۡلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیۡلِ۫ وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ۫ وَتَرْزُقُ مَنۡ تَشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ﴿۲۷﴾ رَحْمٰنَ الدُنْیَا وَالْاٰخِــرَۃِ وَ رَحِیْمَھُمَا تُعْطِیْ مِنْھُمَا مَنْ تَشَآءُ وَتَمْنَعُ مِنْھُمَا مَنْ تَشَآءُ اِقْضِ عَنِّیْ دَیْنِیْ (یعنی یوں عرض کر اے اللّٰہ ملک