میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ہمارے امام اعظمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم نے اپنے قرضدار کا شرمندگی کی وجہ سے چھپ کر راستہ بدلنا بھی گوارا نہ کیااور کمال حسنِ سلوک اور دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا تمام قرض معاف فرمادیا۔ کاش ! ہمیں بھی یہ جذبہ نصیب ہوجائے کہ ہم بھی اپنے قرض داروں کے ساتھ تقاضے میں نرمی برتنے اور ممکنہ صورت میں اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ قرض معاف کر کے اجر وثواب کمانے والے بن جائیں۔اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
قرض اُتارنے کے وظائف
عرض:قرض اُتارنے کا کوئی وظیفہ اِرشا دفرمادیجیے ۔
ارشاد:قرض اُتارنے کے تین وظائف پیشِ خدمت ہیں:
(۱)اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْہَمِّ وَالْحُزْنِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَلَبَۃِ الدَّیْنِ وَقَہْرِ الرِّجَال(1) اس وظیفے کوجو کوئی ایک بار پڑھے اِنْ شَآءَاللہعَزَّ وَجَلَّوہ غَم واَلم سے محفوظ رہے گا اورجو شخص مقروض ہو توادائے قرض کے لیے اس وظیفے کوتا حُصولِ مرادصُبح و شام گیارہ گیارہ بار(اوّل وآخِرایک ایک مرتبہ دُرُودِ پاک )
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… اَبوداود،کتاب الوتر،باب فی الاستعاذة،۲/۱۳۳،حدیث:۱۵۵۵ ماخوذاً