پر ہو اُسی پر چلتے آؤ،دوسری راہ اختیار نہ کرو۔اس نے دیکھا کہ امام صاحب رَحمَۃُ اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اسے پہچان لیا ہے اور بلالیا ہے تو بہت شرمندہ ہوا اور وہیں رُک گیا۔آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اس سے پو چھا: تم نے اپنا راستہ کیوں تبدیل کیا ؟اس نے بتایا: حضور! آپ کا میرے ذِمّے دس ہزار درہم قرض ہے اور اس بات کو عرصہ ہو چکاہے مگر میں آپ کا قرض ادا نہ کرسکا تو مجھے آپ کو دیکھ کر بہت شرم محسوس ہوئی۔(یعنی میں اس شرمندگی کی وجہ سے آپ کو منہ دکھانا نہیں چاہتا تھا)آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس سے فرمایا: سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ! تیرامعاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ تم نے مجھے دیکھا تو مجھ سے(قرض کے تقاضے کے خوف اور شرمندگی کی وجہ سے ) خود کو چھپا لیا، جاؤ! میں نےتمہیں اپنا تمام قرض معاف کیا اورمیں خود اس پر گواہ ہوں، آئندہ مجھ سے آنکھ نہ بچانا اور میری طرف سے جوچیز تمہارے دل میں داخل ہوئی ہے اس سے خودکو بری سمجھ کر مجھ سے ملا کرو۔حضرتِ سَیِّدُنا شقیق بن ابراہیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالکَرِیم فرماتے ہیں کہ(آپرَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ حسنِ سلوک دیکھ کر)میں نے جان لیا کہ آپرَحمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِ واقعی زاہد (یعنی دنیا سے بے رغبتی رکھنے والے) ہیں۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مَناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ،قصة زید بن علی ...الخ،الجزء:۱،۱ /۲۶۰