تعالیٰ اس کو اپنا سایۂ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سِوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“
سرکارِمدینۂ منوَّرہ،سردارِ مکۂ مکرَّمہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ عالیشان ہے:جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہتعالیٰ اسے قیامت کے دن غم سے بچائے، تو اُسے چاہیے کہ تنگدست قرضدار کومُہْلَت دے یا قر ض کا بوجھ اس کے اُوپر سے اُتاردے(یعنی معاف کردے)۔(1)
ہمارے بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نہ صرف اپنے قرضدار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دیتے ،تقاضے میں نرمی کا برتاؤ کرتے بلکہ بسااوقات قرض کی معافی سے بھی نواز دیا کرتے تھے جیساکہ حضرتِ سَیِّدُنا شقیق بن ابراہیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالکَرِیم فرماتے ہیں کہ میں ایک دن حضر تِ سَیِّدُنا امام اعظمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا جبکہ آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کسی مریض کی عیادت کے لیے جا رہے تھے۔آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دور سے ایک شخص آتا دیکھا لیکن اس نے فوراً اپنے آپ کو حضرتِ سَیِّدُنا امام اعظمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْاَکرَم سے چھپاتے ہوئے راستہ بدل لیا۔آپ رَحمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُسے نام لے کر پکارا اورفرمایا:تم جس راستے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مُسْلِم،کتاب المساقاة،باب فضل اِنظار المعسر،ص۸۴۵،حدیث:۱۵۶۳