Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 12:مَساجِد کے آداب
22 - 34
کرنے کی طاقت کے لیےیہ شرط نہیں کہ نَقْد رقم ہو بلکہ اگر کوئی چیز(مثلاً  گھر کے برتن، فرنیچر، فریزر وغیرہ) بیچ کرادا کرسکتا ہے تو ایسا بھی کرنا پڑے گا۔(1)
قرضدار کو مہلت دینے کے فضائل
عرض:کیاقرضدار کو مہلت دینے کی بھی کوئی  فضیلت  ہے ؟
ارشاد:جی ہاں۔قرض دار کو مہلت دینے اور تقاضے میں نرمی برتنے کے قرآن و حدیث میں  بَہُت فضائل بیان ہوئے  ہیں چنانچہ پارہ 3سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 280میں ارشادِ ربّ العباد ہے:
وَ اِنۡ کَانَ ذُوۡعُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ اِلٰی مَیۡسَرَۃٍؕ وَ اَنۡ تَصَدَّقُوۡا خَیۡرٌ لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْلَمُوۡنَ﴿۲۸۰﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر قرضدار تنگی والا ہے تو اسے مہلت دو آسانی تک اور قرض اس پر بالکل چھوڑ دینا تمہارے لئے اور بھلاہے اگر جانو ۔ 
اسآیتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُرادآبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیفرماتے ہیں:”قرضدار اگر تنگ دست یا نادار ہو تو اس کو مہلت دینا یاقرض کا جزو یا کل معاف کردینا سببِ اجرِ عظیم ہے۔مُسلِم شریف کی حدیث ہے سیِّدِعالمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا اللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… کِیْمیائے سَعادت،باب چہارم، ۱/۳۳۶