اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:یہ حسنِ نیت کی برکت اور بدنیتی کی نحوست کا بیان ہے کہ جو شخص انشراحِ صدر کے ساتھ ادا کرنا چاہے گااللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مدد فرمائے گا تاکہ وہ آخرت کے مواخذہ سے بچ سکے اور جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے اس توفیق سے محروم رکھتاہے اور وہ قرض ادا نہ کرنے کے وبال میں گرفتار رہتاہے۔ (1)
اچھی نیت سے قرض لینے والے کے قرض کی ادائیگی کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں جیساکہ حُجَّۃُالْاِسْلامحضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی فرماتے ہیں:جو شخص قرض لیتا ہے اور یہ نیّت کرتاہے کہ میں اچھی طرح ادا کر دوں گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس پر چند فِرشتے مُقرّر فرمادیتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے اور اس کے لیے دُعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہو جائے اور اگرقرضدار قرض ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اب قرض خواہ کی مرضی کے بغیر ایک گھڑی بھربھی تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا اور ظالِم قرار پائے گا۔ چاہے روزے کی حالت میں ہو یا سویا ہوا ہو اُس کے ذِمّے برابر گناہ لکھاجاتارہے گااور ہر حال میں اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی لعنت پڑتی رہے گی۔یہ ایک ایسا گناہ ہے جو نیند کی حالت میں بھی اُ س کے ساتھ رہتاہے اور ادا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… نزھۃ القاری ، ۳/۶۳۵