Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 12:مَساجِد کے آداب
18 - 34
 رَءُوْفٌ رَّحیمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَ التَّسْلِیْم کی خدمت میں نماز پڑھانے کے لیے جنازہ لایا گیا تو حضور سیِّد دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا :اس مرنے والے پرکوئی قرض تو نہیں ہے ؟ عرض کی گئی ،جی ہاں! اس پر قرض ہے۔حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا ،اس نے کچھ مال بھی چھوڑا ہے کہ جس سے یہ قرض ادا کیاجاسکے ؟ عرض کی گئی: نہیں ۔ تو حُضُور سیِّد دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’تم لوگ اس کی نمازِ جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھوں گا)۔“حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ علیکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے یہ دیکھ کر عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں اس کے قرض کو ادا کرنے کی ذِمّہ داری لیتا ہوں۔حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آگے بڑھے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا:’’اے علی(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)! اللہتعالیٰ تجھے جزائے خیردےاورتیری جاں بخشی ہو جیسے کہ تُو نے اپنے اس مسلمان بھائی کے قر ض کی ذِمّہ داری لے کر اس کی جان چھڑائی ۔ کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی طر ف سے اس کا قرضہ اداکرے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ قِیامت کے دن اس کو رِہائی بخشے گا۔‘‘(1)
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت  مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… سُنَنُ الْکُبْریٰ،کتاب الضمان،باب وجوب الحق بالضمان،۶/۱۲۱،حدیث:۱۱۳۹۸