Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 12:مَساجِد کے آداب
15 - 34
جاتی ہے جو دس نیکیوں کے برابر ہوتی ہے  مگر  چند  ایسی صورتیں ہیں جن میں بلند آواز سے تلاوت کرنے کی فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَام نے ممانعت  بیان فرمائی ہے۔
 مجمع میں سب لوگ بُلند آواز سے پڑھیں یہ حرام ہے، اکثر تیجوں میں سب بلند آواز سے پڑھتے ہیں یہ حرام ہے، اگر چند شخص پڑھنے والے ہوں تو حکم ہے کہ آہستہ پڑھیں۔(1)
جہاں کوئی شخص علمِ دین پڑھ رہا ہے یا طالبِ علم علمِ دین کی تکرار کرتے یا مُطالَعہ کرتے ہوئے دیکھیں ،وہاں بھی بلند آواز سے قرآنِ پاک پڑھنا مَنْع ہے۔اسی طرح  بازاروں میں اور جہاں لوگ کام میں مَشْغول ہوں بلند آواز سے پڑھنا ناجائز ہے، لوگ اگر نہ سُنیں گے تو   گناہ پڑھنے والے پر ہے۔ اگر کام میں مَشْغُول ہونے سے پہلے اس نے پڑھنا شروع کر دیا ہو اور اگر وہ جگہ کام کرنے کے لیے مُقرّر نہ ہو تو اگر پہلے پڑھنا اس نے شروع کیا اور لوگ نہیں سنتے تو لوگوں پر گناہ اور اگرکام شروع کرنے کے بعد اس نے پڑھنا شروع کیا تو اس پر گناہ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… بہارِشریعت،۱/۵۵۲،حصہ ۳
2…… غُنْیَةُ الْمُتَمَلِّی،القراءة  خارج الصلوة،ص۴۹۷  ملخصاً