سُننا اور خا موش رہنا وا جِب ہے ۔“
فقہائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ ُ السَّلَامفرماتے ہیں:جب بلند آواز سے قرآن پڑھا جائے تو تمام حاضرین پر سُننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع بغرض سُننے کے حاضر ہو ورنہ ایک کا سُننا کافی ہے اگرچہ اور اپنے کام میں ہوں۔(1)میں چونکہ اجتماعِ میلاد میں حاضری کی سعادت پانے کے لیے حاضر ہوا تھا اور میرے ساتھ آنے والے اور اجتماعِ میلاد میں موجود اسلامی بھائی بھی اسی نیت سے حاضر ہوئے تھے اس لیے ہم سب پر تلاوت ِ قرآن کا سُنناواجب تھا۔دورانِ تلاوت اگر میں منچ پر آجاتا تو عین ممکن تھا کہ لوگ کھڑے ہو جاتے اور کوئی نعرہ لگا دیتا ،میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے کوئی اِسلامی بھائی تلاوت ِ قرآن نہ سُننے کے گناہ میں پڑ جائے اس لیے میں منچ کے اوپر آنے کے بجائے نیچے سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گیا۔
بلند آواز سے تلاوت کرنے کی ممانعت
عرض: بلندآواز سے قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا کب منع ہے؟
ارشاد:قرآنِ پاک کی تِلاوت کرنا اورسُننا بِلاشبہ بڑے اجروثواب کا کام ہے، تلاوتِ قرآن کرنے والے کو ہر ہر حرف کے بدلے ایک ایک نیکی عطا کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… غُنْیَة الْمُتَمَلِّی،القراءة خارج الصلوة،ص۴۹۷ ملخصاً