جب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہتشریف لائے تو تِلاوت شروع ہو چکی تھی چنانچِہ آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہمَنچ پر جلوہ گر ہونے کے بجائے حاضرین سےنظر بچاکرمنچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تلاوت سننے میں مشغول ہوگئے۔ تلاوت ختم ہونے کے بعد جب آپدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ منچ پر تشریف لائے تو آپ کی خدمت میں یہ عرض کی گئی:)حضور یہ ارشاد فرمائیے کہ اجتماعِ میلاد میں آپ براہِ راست منچ پر تشریف لانے کے بجائے سیڑھیوں پر بیٹھ گئے،اس میں کیاحکمت تھی؟
ارشاد:جس وقت قرآنِ کریم کی تلاوت کی جائے تو اسے توجہ سے سُننا اور خاموش رہنا وا جِب ہے جیساکہ قرآنِ مجیدکے پارہ 9 سورۃُ الاعراف کی آیت نمبر 204 میں خدائے رحمٰنعَزَّوَجَلَّ کافرمانِ عالیشان ہے :
وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوۡا لَہٗ وَاَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو۔
اسآیتِ مبارکہ کے تحت صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِیفرماتے ہیں:”اِس آیت سے ثابت ہوا جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خا رجِ نماز ، اس وقت