Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 12:مَساجِد کے آداب
12 - 34
 اجازت نہیں ۔ اگر کوئی  پہلے یہ  بھول کرچکا ہے تو اسے چاہیے کہ فوراً  توبہ کر کےآئندہ انہیں  نہ لانے کاعَہد کر لے۔ہاں فِنائے مسجِد مثلاً امام صاحب کے حُجرے میں انہیں دم کروانے کے لیے لے جانے میں حرج نہیں جبکہ مسجِد کے اَندر سے گزرنا نہ پڑے۔
سوتے وقت عِما مے شریف کو تکیہ بنا نا
عرض:کیاسوتے وقت عِمامے یا مصلے کو تکیہ بناسکتے ہیں؟
ارشاد:سوتے وقت عمامے اور مصلے کو تکیہ نہیں بنانا چاہیے کہ یہ خِلافِ ادب ہے جیسا کہ صَدْرُالشَّریعہ،بَدْرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:پاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عِمامَہ کا بھی تکیہ نہ بنائے۔(1)حیاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے : سر کے نیچے عمامہ یا مصلیٰ یا پاجامہ رکھنا ممنوع کہ عمامہ ومصلیٰ رکھنے سے عمامہ اور مصلیٰ کی اور پاجامہ رکھنے سے سر کی بے حرمتی ہے نیز عمامہ کے شملہ سے ناک یا منھ پوچھنا نہ چاہیے۔(2)
منچ کے بجائے سیڑھیوں پر بیٹھنے میں حکمت
عرض:(ربیع الاوّل  ۱۴۱۸؁ھ کی۱۲ویں شب تقریباً۱۲بجے اجتماعِ میلاد میں بیان کرنے کے لیے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… بہارِشریعت،۳/۶۶۰،حصہ۱۶
2…… حیاتِ اعلیٰ حضرت،حصہ۳، ص ۹۰